ہیرا پھیری (وائف سٹوریز)

Only For Adults

ہیرا پھیری

(وائف سٹوریز)

میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں۔ میری بیوی کا نام نورالنسا ہے۔ اور میں اور میری بیوی کپل میں پارٹنرز تبدیل کر کے سیکس کرنا پسند کرتے ہیں۔ میں نے اور میری بیوی نور نے اس بار دوبئی میں جا کر سیکس کرنے کا ارادہ تھا۔ اور دبئی پہنچتے ہی ہم نے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ کوئی اگر بیوی تبدیل کر کہ سیکس کرنا چاہتا ہے تو ہم سے رابطہ کر سکتا ہے۔اگلے دن مجھے میری آئی ڈی پر پرکاش نامی بندے کا میسج آیا اور وہ بولا میں اور میری دلچسپی رکھتے ہیں تو میں نے انکو ملنے اپنے اپارٹمنٹ پر بلا لیا۔ شام کو پرکاش اور اسکی بیوی کویتا ہمارے گھر آگئے اور میری بیوی نور نے ویلکم کیا اور پھر ہم سب نے ملکر کھانا کھایا۔ میری بیوی نور کو پرکاش

پسند آیا تھا اور مجھے بیوی کی خواہش تھی کہ اسکی چوت کوئی چمڑی والا لن  چودے تو آج موقع مل گیا تھا۔کویتا کا رنگ گندمی تھا ، جبکہ پرکاش کالا تھا ۔ ہم دونوں کافی حد تک گورے ہیں۔پرکاش اور میں باتیں کرنے لگے اور پرکاش نے مجھ سے پوچھا یاسر پہلے کتنی بار بیوی کو چدوایا ہے تو میں نے کہا دو بار چدوا چکی ہے۔ میں نے پرکاش سے پوچھا تو بولا میری بیوی کافی بار دوسرے مردوں سے چدوا چکی ہے۔ پرکاش بولا یاسر تمہاری بیوی نور مجھے پسند آئی ہے تمہاری بیوی دیکھ کر دل کرتا ہے کہ لوڑا اندر کردوں اور اسکی چوت پھاڑ دوں۔ میں نے کہا پرکاش آج رات میری بیوی تیرے لن کی غلام ہے جیسے مرضی چودنا میری بیوی کی پھدی۔ میں نے کہا پرکاش تیری بیوی کویتا بھی مست ہے کیا ممے ہیں کیا گانڈ ہے کویتا بھابی کی آج جم کر چودوں گا تیری بیوی کو پرکاش آج کی چدائی یادگار ہونی چاہیے۔پرکاش بولا چلوں اندر دیکھیں انکو کیا کر رہی ہیں۔ میں اور پرکاش شراب پینے لگے تو کویتا اور میری بیوی دونوں آگئی اور ہمارے ساتھ شراب پینے لگی۔ شراب پیتے پیتے کویتا نے میری بیوی کو میرے پاس سے اٹھایا اور میری بیوی کے گال پر کس کیا اور اپنے شوہر پرکاش کے پاس بیٹھا دیا اور بولی میرے شوہر کو خوش کردینا میری بیوی نور بولی فکر نہ کرو اور تم میرے شوہر یاسر کو بھی صحیح سے مزا دینا۔ اب کویتا میرے پاس بیٹھ گئی اور شراب پینے لگی۔

پرکاش کی عمر 40 سال تھی اور کویتا کی عمر 33 سال تھی۔ پرکاش ایک ساؤتھ انڈین تھا جبکہ کویتا دہلی کی رہنے والی تھی۔ پرکاش میری بیوی کی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنے لگا اور مجھے بولا یاسر تیری بیوی کی  چوت آج ایک چمڑی والا لن   لن سے چدنے والی ہے۔ میں نے کہا اچھی بات ہے نہ ہندو مسلم پیار بڑھے گا اور تیری بیوی کویتا ایک مسلمان کا لن اپنی ہندو چوت میں لے گئی۔میری بیوی نور پرجوش نظر آرہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد پرکاش نے کویتا کو کہا سندور دے مجھے اور کویتا نے پرس سے سندور نکال کر دے دیا۔ پرکاش نے وہ سندود میری بیوی کے ماتھے اور میری بیوی کی مانگ پر لگا دیا اور کہا نور تو میری پتنی بن گئی اور کویتا نے سندور سے میرے ماتھے پر تلک لگا دیا۔ اب میری بیوی نور کا ہاتھ پرکاش نے اپنے لن پر رکھ دیا اور نور کو کہا پینٹ کی زپ کھول کر لن باہر نکال دو اور میری بیوی نے پرکاش کی پینٹ اتار دی اور اس کا انڈر وئیر بھی اتار کر پرکاش کے لن کو ہلانے لگی۔میری بیوی نشے میں تھی اور پرکاش بھی بہت نشے میں تھا۔ پرکاش نے مجھے کہا یاسر میرے ساتھ آکر بیٹھ جاو یہ دونوں رنڈیاں ایک ساتھ ہمارا لن چوسے گی۔ میں پرکاش کے ساتھ بیٹھ گیا اور میری بیوی اور کویتا زمین پر بیٹھ گئ۔ کویتا نے میرا لن پاجامے سے باہر نکال دیا اور پاجامہ اتار دیا

کویتا میرے لن سے کھیلتے ہوے کہنے لگی ' سوامی آپ کا لن تو شیخوں جیسا پیارا ہے

۔ اب کویتا نے میرے لن کو چوسنا شروع کیا اور کویتا میرے لن کے ٹٹے بھی چوس رہی تھی۔ میری بیوی نور نے پرکاش کا 8 انچ کا کالا لوڑا لیا ہوا تھا اور زور سے پرکاش کا لن اور ٹٹے چوس رہی تھی۔بیچ بیچ میں لن کی چمڑی کو موں میں لیکر چھوگم کی چوستی

پرکاش میری بیوی کے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بول رہا تھا اوہ نور تیری آج مست چدائی ہونے والی ہے میری بیوی میں بھی یہی چاہتی ہوں۔ میری بیوی کویتا سے بولی کیسا لگا میرے شوہر کا لن تو کویتا بولی اچھا ہے۔پرکاش نے میری بیوی نور کو میرے سامنے ننگا کرنا شروع کر دیا اور پرکاش نے میری بیوی کی شرٹ اور پینٹ اتار دی اور میری بیوی کے ممے چوستے ہوے پرکاش میری بیوی کی پھدی پر ہاتھ پھیرنے لگا میں نے بھی کویتا کو ننگا کر دیا۔ اب کویتا اور نور دونوں کو میں نے اور پرکاش نے گھوڑی بنا دیا اور میں کویتا کی پھدی چوسنے لگا اور پرکاش میری بیوی نور کی پھدی چاٹنے لگا۔ مجھے اپنی بیوی نور کو پرکاش سے پھدی چٹواتے دیکھ کر جوش چڑھ رہا تھا۔ کویتا کی چوت میں زبان مار رہا تھا کہ کویتا کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔ اب میں نے کویتا کو کہا چل کویتا رانی میرا لن چوس اچھے سے اور کویتا لن چوسنے لگی۔پرکاش نے اب لن میری بیوی کی پھدی پر رکھ دیا تھا اور میری بیوی نور بولی پرکاش اندر کر دو اپنا چمڑی والا لن میری چوت میں پورا جڑ تک۔ پرکاش نے زوردار دھکا میری بیوی نور کی پھدی پر مارا اور پرکاش کا لن میری بیوی کی پھدی میں گھس چکا تھا۔ پرکاش میری بیوی نور کی میری پھدی میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر چود رہا تھا اور پرکاش کی بیوی کویتا میرے لن کو مسلسل چوسے جا رہی تھی۔ اب میں نے بھی کویتا کو صوفے پر گھوڑی بنا دیا اور اپنا لن کویتا کی پھدی میں ڈال کر چوت چودنے لگا۔ کویتا بہت مزے میں ہو چکی تھی اور سسکیاں لے رہی تھی۔ پرکاش بھی میری بیوی نور کی چوت پر زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔ اور میری بیوی مجھے بولی یاسر تیری بیوی کی پھدی آج ایک چمڑی والا لن  سے چد گی۔ میں نے کہا مجھے اچھا لگ رہا ہے۔ میں کویتا کی چوت پر جھٹکے زور سے مار رہا تھا کہ میری منی کویتا کی چوت میں نکل گئی۔ میں نے لن نکالا اور کویتا نے چوس کر صاف کر دیا۔ اور پھر میں اور کویتا میری بیوی نور کی چدائی دیکھنے لگے۔

پرکاش نے اب میری بیوی کو سیدھا لٹا دیا اور میری بیوی کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر چوت چودنے لگا اب میری بیوی نے پرکاش کو کمر سے پکڑ رکھا تھا اور پرکاش میری بیوی کی پھدی کو گہرائی تک چود رہا تھا۔ پرکاش نے اب میری بیوی کی پھدی پر جھٹکے تیز مارنا شروع کر دیے میری بیوی آہ آہ کی آوازیں لگانے لگی اور پرکاش نے زبردست جھٹکوں کے ساتھ میری بیوی کی پھدی کو اپنی منی سے بھر دیا اور پرکاش میری بیوی پر لیٹ گیا۔ میری بیوی نور بولی یاسر مجھے پرکاش سے مزید چدوانا ہے۔ جب تک ہم دبئ ہیں میں پرکاش کے ساتھ رہوں گئی اسکے گھر تم کویتا کو رکھو۔ میں اور پرکاش مان گئےاور پرکاش میری بیوی نور کو ساتھ لے کر چلا گیا اور کویتا چھوڑ گیا۔ 15 دن کے بعد جس رات ہماری پاکستان واپسی کی فلائٹ تھی پرکاش اس وقت میری بیوی کو ائیر پورٹ لے کر آیا اور بولا ابھی آتے ہوئے بھی یاسر تیری بیوی کی پھدی اور گانڈ دونوں پر اپنے لن سے مہر لگائی ہے۔ میری بیوی بہت خوش تھی میں نے اور نور نے کویتا اور پرکاش کو بائے بائے کیا اور واپس پاکستان آگے۔ واپسی پر مجھے میری بیوی نور نے کہا وہ پرکاش سے حاملہ ہو چکی ہے اور پھر ڈاکٹر سے رجوع کر کہ میں نے پرکاش کا بچہ ضائع کروایا۔ لیکن میری بیوی آج تک پرکاش کے لن کو یاد کرتی ہے۔

نور کی زبانی

میری ساس نسرین ایک چڈکر عورت ہے جسے نئے نئے لن لینے کا شوق ہے۔ اسی وجہ سے میری ساس 56 سال کی ہو کر بھی 45 کی لگتی ہے اور اس کا جسم بھی فٹ ہے۔ میری ساس کو چڈکر بنانے میں میرے شوہر یاسر کا ہی ہاتھ تھا جس نے اپنی سگی ماں کو 15 سال کی عمر سے چودنا شروع کر دیا اور ابھی تک خود بھی چودتا ہے اور چدواتا بھی ہے۔میری ساس اور مجھ میں کوئی پردہ نہیں ہے ایک دن میری ساس نسرین بولی نور بیٹی میرا ایک پرانا دوست ہے آفتاب جو میرے شوہر کا دوست ہے وہ تیری پھدی چودنا چاہتا ہے تو میری بات مان تو ایک بار چدوا لے ویسے بھی یاسر کو کوئی اعتراض نہیں ہے کہ تو کسی سے بھی پھدی چدوائے، آفتاب مجھے بہت بار کہہ چکا ہے کہ اپنی بہو نور کی پھدی دلوا دے۔میں نے اپنی ساس نسرین سے کہا ٹھیک ہے اگر تم چاہتی ہو تو ٹھیک ہے میں نے بھی کافی دن سے کسی کو اپنی پھدی نہیں دی تھی سوچا چلو آفتاب انکل سے ہی چدوا لیتی ہوں۔نسرین آنٹی نے مجھے کہا کل تم صبح اس ایڈریس پر چلی جانا اور اس نمبر پر فون کرنا یہ آفتاب کا نمبر ہے۔ اگلے دن سکول سے چھٹی تھی تو میں نے یاسر کو کہا کہ میں اپنی سہیلی کے گھر جاؤں گئ شام تک آجاؤں گی۔میں راولپنڈی کری روڈ پر واقع اس گھر کے ایڈریس پر پہنچ گئی اور میں نے آفتاب انکل کے نمبر پر فون کیا تو آفتاب انکل نے مسکراتے دروازہ کھولا اور میں گھر میں داخل ہو گئی۔ آفتاب انکل مجھے کمرے میں لے گئے اور بٹھا دیا۔آفتاب انکل 57 سال کا تھا لیکن صحیح جان والا تھا جوان لگتا تھا ۔ آفتاب نے مجھے پیپسی دی گرمی کا موسم تھا اور اے سی چل رہا تھا۔آفتاب :- نور مجھے اچھا لگا تم پھدی چدوانے چلی آئی ہو میرا لن تمہاری پھدی پر بہت گرم تھا۔

مجھے دوسروں کی بیوی کی چدائی کرنے کا نشہ ہے سب سے پہلے اہنے دوست کی بیوی نسرین کی پھدی چودی اور اسکو اپنے دوستو سے بھی چدوایا اور آج نسرین کے بیٹے یاسر کی بیوی میرے لن کی سواری کرے گی۔

میں نے کہا ہاں میں چاہتی تھی اپنی چوت کی چدائی کسی اپنے سے بڑے مرد سے کرواوں۔آبھی میں بات کر رہی تھی کہ آفتاب انکل نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے اور آفتاب انکل کا ایک ہاتھ میرے ممے پر تھا۔ میں نے منہ کھول دیا اور اپنی زبان آفتاب انکل کے منہ میں ڈال دی۔ آفتاب انکل میری زبان کو چوسنے لگا اور آفتاب انکل ساتھ ساتھ میرے ممے دبا رہا تھا۔

اب آفتاب انکل اٹھا اور اس نے مجھے بیڈ پر گرا کر میری شلوار کھینچ کر اتار دی میری ہلکے ہلکے بالوں والی پھدی میری ساس نسرین کے یار کے سامنے تھی۔ آفتاب انکل نے اپنی شلوار اتار دی اور انکا 8 انچ کا لوڑا سانپ کی طرح پھن پھلا کر لہرانے لگا۔ آفتاب انکل نے اپنی قمیض اتار دی اور میری قمیض بھی اتارنے لگا۔

آفتاب انکل نے میری قمیض اور میرا سرخ برا اتار دیا اور کچن سے شہد کی بوتل لے کر آگیا۔آفتاب انکل مجھے بولا نور اپنی ٹانگوں کو پورا کھول دے

میں نے اپنی ٹانگیں کھول دی تو آفتاب انکل نے میری پھدی کو شہد سے بھر دیا

پھر آفتاب انکل نے میرے ہونٹوں پر شہد لگایا اور پھر شہد میرے مموں کے نپلز پر لگانے لگا۔آفتاب انکل نے میرے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا اور زور زور سے میرے ہونٹوں کو چوس رہا تھا۔آف کیا بتاؤں میری کیا حالت ہو رہی تھی آفتاب انکل مجھے دیوانوں کی طرح چوم رہا تھا اور آفتاب انکل کا کالا لوڑا میرے پیٹ اور کبھی میری پھدی پر ٹچ ہو رہا تھا۔ آفتاب انکل میرے ہونٹوں اور گردن پر بوسے لے رہا تھا اور دانتوں سے کاٹ رہا تھا۔ میں بھی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی اور بہت زیادہ مزے میں تھی۔ میری پھدی سے مسلسل پانی نکل رہا تھا۔اب آفتاب انکل نے میرے مموں کے نپلز کو چوسنا شروع کیا اور شہد میرے مموں کے نپلز سے چاٹ کر صاف کرنا شروع کر دیا۔ آفتاب انکل پرانا کھلاڑی تھا اور وہ جانتا تھا ایک عورت کو کیسے مزا دینا ہے۔آفتاب انکل میرے ممے زور زور سے چوس رہا تھا اور اپنے دانتوں سے کاٹ رہا تھا میری پھدی اس دوران دو بار پانی چھوڑ چکی تھی۔ مگر آفتاب انکل میرے ممے مسلسل بیس منٹ سے چوس رہا تھا اور دبا رہا تھا۔

آفتاب انکل : اور نور آج تیری پھدی پھاڑ کر گھر بھیجو گا آج تیری پھدی کا سوراخ تیری ساس کی پھدی جتنا کھلا کر کہ بھیجوں گا۔ آف آہ نور تیری گرم گرم چوت اہ

میں نے کہا آہ انکل چودو پھاڑ دو میری پھدی میری ساس نے تو تم سے چدوانے بھیجا ہے مجھے جی بھر کر مارنا میری پھدی آج اہ میں بھی بہت گرم ہو چکی ہوں۔ آفتاب انکل میری پھدی چاٹو۔آفتاب انکل نے میری شہد سے بھری پھدی کو چاٹنا شروع کیا اور زور زور سے میری پھدی کو چاٹنے لگا اور میری ٹانگیں پوری طرح کھول کر آفتاب انکل نے اپنی زبان میری پھدی کے سوراخ کے اندر گھسا دی اور میری پھدی کے اندر زبان مارنے لگا۔آف میں بتا نہیں سکتی آفتاب انکل کی زبان میری پھدی کو کتنی لذت دے رہی تھی میری پھدی دو بار پانی چھوڑ چکی تھی مگر آفتاب انکل میری پھدی کو مسلسل چاٹ رہا تھا۔ میری پھدی بھی فل مستی میں تھی۔آفتاب انکل میری پھدی کو چاٹتے ہوئے میری پھدی کا تیسری بار پانی شہد کے ساتھ چاٹ کر نگل گیا۔اب آفتاب انکل نے اپنے 8 انچ کے لن پر شہد لگایا اور لن میرے منہ کے قریب کر دیا میں نے فوراً لن منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا آف کیا بتاؤں مجھے آفتاب کا لن منہ میں ایک لوہے کے راڈ کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔ بہت تگڑا لن تھا اور مجھے چوس کر بھی مزا ارہا تھا۔ میں نے زور زور سے آفتاب انکل کے لن کو چوسنا شروع کیا اور لن کو چوستے اپنے گلے تک لے کر جاتی تھی اور پھر لن باہر نکال کر لن کے ٹوپے کو زبان مارتی اور پھر لن پورا منہ میں لے کر چوس رہی تھی۔آفتاب انکل بولا تم ساس بہو بہت اچھا لوڑا چوستی ہو مزا آجاتا ہے۔میں 20 مسلسل آفتاب انکل کا لوڑا چوس رہی تھی کہ آفتاب انکل بولا نور میری منی نکلنے والی ہے تو میں نے کہا کیا ہوا میرے منہ کے اندر منی نکال دو اور پھر آفتاب انکل کے لن سے منی کا فوارہ چھوٹا اور میرا منہ آفتاب انکل کی گاڑھی منی سے بھر گیا تھا۔ میں نے منی نگل لی اور آفتاب انکل کے لوڑے کو چوسنا جاری رکھا ہوا تھا۔میری پھدی میں آگ لگی ہوئی تھی اور میں مسلسل آفتاب انکل کے لوڑے کو چوس رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد آفتاب انکل کا لن میری پھدی چودنے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔آٰفتاب انکل نے مجھے گھوڑی بننے کو کہا اور میں فوراً گھوڑی بن گئ اور آفتاب انکل نے میری چوت کو زبان ماری اور پھر اپنا 7 انچ کا لن میری پھدی کے سوراخ پر رکھ کر زور دار جھٹکا مارا۔میری سسکی نکلی آہ میری چوت

آفتاب انکل بولا نور آج پھاڑ دوں گا تیری چوت

میں نے کہا پھاڑ دو انکل تجھ سے چوت ہی چدوانے آئی ہوں

آفتاب انکل نے دو زوردار جھٹکے مارے اور لن میری پھدی کے اندر تک گھسا دیا اور زور زور سے میری پھدی چودنے لگا۔ آفتاب انکل میری پھدی زور زور سے چود رہا تھا اور میں مزے کے ساتویں آسمان پر تھی۔

آفتاب انکل کا 8 انچ کا لوڑا میری پھدی میں لوہے کی راڈ کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔ آفتاب انکل زور زور سے میری کمر کو پکڑ کر مجھے چود رہا تھا۔

اب آفتاب انکل نے مجھے کہا میرے لن پر چڑھ کر پھدی مارو میں نے آفتاب انکل کو لٹا دیا اور اسکے لن پر اپنی پھدی رکھ دی اور پورا لن اپنی گرم پھدی میں لے کر آفتاب انکل کے لن پر پھدی مارنے لگی۔

آفتاب انکل میری گانڈ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اور میں زور زور سے آفتاب انکل کے لن پر اپنی چوت مار رہی تھی۔ آفتاب انکل نے گانڈ پر زور زور سے تھپڑ مارنا شروع کر دیے لیکن مجھے درد کے ساتھ مزا آریا تھا۔

اب آفتاب انکل نے مجھے بیڈ پر لیٹنے کو کہا اور میں لیٹ گئ آفتاب انکل نے میری دونوں ٹانگیں اٹھا کر میری کندھوں سے لگا دی اور میری پھدی پر چڑھ کر زور زور سے چودنے لگا۔

آفتاب انکل 20 منٹ سے میری چوت مار رہا تھا اور میری چوت تین بار فارغ ہو چکی تھی مگر آفتاب انکل کا فولادی لن ابھی تک فارغ نہیں ہو رہا تھا۔ آفتاب انکل بولا بول گشتی چدوانے آنا ہے دوبارہ؟ میں نے کہا ہاں لازمی مجھے مزا آرہا ہے تجھ سے چدوا کرآفتاب انکل زود زور سے میری پھدی چود رہا تھا اور آفتاب انکل کے ٹٹے ہر گھسے پر میری گانڈ کے سوراخ پر لگ رہے تھے اب مجھے میری پھدی میں گرم گرم کوئی چیز گرتی محسوس ہوئی میں نے پھدی کو ٹایٹ کر کہ آفتاب انکل کے لن کو اپنی پھدی سے جکڑ لیا۔آفتاب انکل تیز تیز سانسیں لیتا بولا نور گشتی تیری پھدی نے میرے لن کو چوس لیا ہے اور آفتاب انکل میرے اوپر لیٹ گیا۔ آفتاب انکل کا لن میری پھدی کے اندر ہی تھا میں نے آفتاب انکل کو کمر سے پکڑ رکھا تھا اور اپنی ٹانگیں کھول رکھی تھی اور آفتاب انکل میری پھدی کے اوپر بلکل فٹ چڑھا ہوا تھا۔۔ کچھ دیر کے بعد آفتاب انکل کے لن نے میری پھدی میں پھر انگڑائی لی اور آفتاب انکل نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر میری پھدی کو پھر سے چودنا شروع کردیا۔ آفتاب انکل میرے ہونٹوں کو چوستے ہوئے میری پھدی چود رہا تھا اور میرے ہاتھ آفتاب انکل کی کمر پر تھے اور میں چوت اٹھا کر آفتاب انکل کے ہر جھٹکے کا جواب دے رہی تھی۔

آفتاب انکل نے مجھے گھوڑی بنا دیا اور میری پھدی پر چڑھ کر میری پھدی چودنے لگا۔ میں نے کہا آہ انکل چودو بہت مزا ارہا ہے اور زور سے چودو میری پھدی آہ آفتاب انکل بولا گشتی فکر نہ کر آج تیری بہت چدائی ہو گئی۔ 10 منٹ کے بعد آفتاب انکل میری چوت میں فارغ ہو گیا۔

پھر کچھ دیر کے بعد میری ساس کا فون آیا بولی سب ٹھیک ہےتو میں نے کہا ہاں بہت مزا ارہا ہے۔

آفتاب انکل کے مجھ سے فون لے کر میری ساس کو بولا نسرین تیری بہو کی پھدی آج پھاڑ کر بھیجوں گا یہ ہفتے تک کسی کو پھدی دینے کے قابل نہیں رہے گی۔

میری چوت میں فارغ ہونے کے بعد آفتاب انکل نے میری پھدی سے لن باہر نکال کر میرے منہ میں ڈال دیا اور میں نے آفتاب انکل لے لن کو چوس کر اچھے سے صاف کیا اور پھر آفتاب انکل نے میری پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا میری پھدی پھر سے مست ہونے لگی اور میں نے آفتاب انکل کا سر پکڑ کر اپنی پھدی میں دبانا شروع کر دیا اور آفتاب انکل کو کہا کھا جاؤ میری پھدی کو چاٹو اچھے سے چاٹو میری گرم پھدی کو آج سے تمہاری ہے جب تم کہو گے تم سے چدوانے آیا کروں گئ۔ اب تم میری ساس نسرین کے ساتھ ساتھ میری پھدی کو بھی چودا کرنا۔آفتاب انکل میری پھدی کو چوس رہا تھا اور پھر مجھے بولا نور چل سیدھا لیٹ جا اور میں بیڈ پر سیدھا لیٹ گئ۔ آفتاب انکل میرے اوپر لیٹ گیا اور اپنا لن میری پھدی کے اوپر رکھ کر رگڑنے لگا۔ میری پھدی مست ہونے لگی تو میں نے آفتاب انکل کے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر نیچے سے پھدی اٹھا کر جھٹکا دیا اور آفتاب انکل کے 8 انچ لمبے لن کا موٹا ٹوپا میری پھدی کے اندر داخل ہو چکا تھا۔

اب آفتاب انکل نے ایک زور دار گھسا میری پھدی پر مارا اور پورا لن میری پھدی کے اندر گھس چکا تھا۔ میں نے آفتاب انکل کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور چوسنے لگی اور آفتاب انکل میری پھدی چودنے لگا۔ میری پھدی نے آفتاب انکل کے لن کو جکڑ رکھا تھا اور آفتاب انکل کھل کر میری چدائی کر رہے تھے۔

اب آفتاب انکل نے میری پھدی چودتے ہوئے میرے ممے چوسنا شروع کر دیے اور میں چدائی کے نشے میں پاگل ہو رہی تھی۔ آفتاب انکل میرے مموں کو چوستا اور دانتوں سے کاٹتا تھا جس سے میری پھدی کو مزید نشہ چڑھ رہا تھا۔ بیس منٹ سے آفتاب انکل میری چوت چود رہا تھا مگر فارغ نہیں ہو رہا تھا اس دوران میری پھدی نے 2 بار پانی چھوڑا مگر آفتاب انکل کا لن راڈ بن کر میری پھدی مسلسل چود رہا تھا۔پھر 5 منٹ کے بعد آفتاب کے لن نے اپنی منی سے میری پھدی کو بھر دیا اور میرے اندر لن رکھ کر لیٹ گئے۔ کچھ دیر کے بعد آفتاب انکل نے لن میری پھدی سے باہر نکال کر چسوا کر صاف کروایا اور مجھے پوچھا نور مزا ارہا ہے؟ میں نے کہا بہت لیکن تھک گئی ہوں تو آفتاب بولا گشتی ابھی تیری پھدی 4 چار مزید چودنی ہے۔

اس دن آفتاب انکل نے میری پھدی کو 7 بار چودا اور میری پھدی کا برا حال کر دیا میری گردن اور ہونٹوں کو چوس کر کاٹ کر نشان بنا دیئے مجھے کوئی دیکھ کر اندازہ کر سکتا تھا کہ میری پھدی کسی بری طرح چودی ہے۔ میں شام 6 بجے گھر آئی اور سہی چلا نہیں جا رہا تھا اور تھکاوٹ تھی میں آتے ہی سو گی۔ رات یاسر نے میری پھدی چودنی چاہی تو میں نے کہا یاسر کچھ دن میرے قریب مت آنا میری طبیعت نہیں ٹھیک اور میں سو گئ۔ مگر یاسر کو میری گردن اور ہونٹوں پر نشان دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ اسکی بیوی کی پھدی کسی نے بری طرح چودی ہے۔اگلے دن میری ساس نے مجھ سے پوچھا کیسا رہا تجربہ آفتاب سے چدوانے کا، تو میں نے کہا بہت عمدہ تھا اب نسرین آنٹی ساس بہو دونوں آفتاب سے چدائی کروایا کریں گی۔ میری ساس نسرین ہنسنے لگی اور بولی آفتاب کے لن میں جادو ہے جس عورت کی پھدی چود دیتا ہے وہ عورت دوبارہ خود پھدی چدوانے جاتی ہے۔

بیوی کے بدلے بیوی

ہیلو دوستو کیسے ہو سب آج میں آپکو جو کہانی سنانے جا رہا ہوں یہ دو سال پہلے کی ہے۔ جس میں میں نے اپنی بیوی کی سہیلی کو چودا اور اسکے شوہر نے میری بیوی کو چودا یعنی ہم نے بیویاں تبدیل کر کہ چدائی کا مزا لیا۔ میری بیوی دیکھنے میں سلم ہے میری بیوی کا بوبز کا سائز 36 ہے اور گانڈ نارمل ہے۔ میری بیوی نور کا رنگ گورا ہے اور قد 5 فٹ 8 انچ ہے۔ ہماری شادی کو دو سال ہو چکے تھے اور ہمارا کوئی بچہ پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں اور نور ساری ساری رات سیکس کرتے تھے اور نور چدوانے میں بڑی مہارت رکھتی تھی کیونکہ میری بیوی نور کے شادی سے پہلے بھی بہت افئیرز تھے اور اپنے قاری صاحب، کزنز اور کالج کے پروفیسر سے چدوایا کرتی تھی۔ ایک رات جب میں نور کی پھدی مار رہا تھا تو رات کے 1 بجے نور کے موبائل پر میسج آیا جو اسکی دوست سدرہ شیخ کا تھا کو گوجرانوالہ رہتی تھی۔ سدرہ نور سے پوچھ رہی تھی کیا کر رہی ہو تو میری بیوی نور نے کہا یاسر سے چوت چدوا رہی ہوں تم اپنا بتاؤ؟

میری بیوی نے مجھے سدرہ کا میسج دکھایا اور جو اسکو جواب دیا وہ بھی دکھایا، میری بیوی اور سدرہ آپس میں بہت کھلی ہوئی ہیں کیونکہ سدرہ میری بیوی کی بچپن کی سہیلی تھی۔ سدرہ نے کہا کتنی بار چدوا چکی ہو تو میری بیوی نور بولی ابھی تو ایک بار چوت چدوائی ہے۔ تم اپنا بتاؤ سدرہ بولی میرا شوہر 2 بار میری پھدی چود چکا ہے اور اب پھر مجھے گرم کر رہا ہے۔ میں سدرہ اور اپنی بیوی نور کے میسجز پڑھ کر بہت گرم ہو گیا تھا اور میں نے نور کو کہا تم سدرہ سے بات کرتی رہو اور میں تمہاری پھدی کو چاٹتا ہوں۔ نور نے ٹانگیں کھول دیں اور میں نے زبان اپنی بیوی نور کی پھدی کے اندر گھسا دی۔ پانچ منٹ پھدی چاٹنے کے بعد میری بیوی کی پھدی نے پانی میرے منہ میں چھوڑ دیا اور میں چوت کا سارا پانی پی گیا۔ اب میں نے جب نور کے پاس گیا تو میں میسجز پڑھنے لگا تو سدرہ میری بیوی نور کو کہہ رہی تھی کہ میرا شوہر رضوان تیرے میسجز پڑھ رہا ہے تو میری بیوی نور نے کہا تو کیا ہوا میرا شوہر یاسر بھی تیرے سارے میسجز پڑھ رہا ہے۔

میں نے نور کو کہا تیری دوست سدرہ کی کی پھدی بہت مست ہے کاش مجھے چودنے کو مل جائے تو میری بیوی نور بولی سدرہ کے شوہر رضوان کو میری پھدی مست لگتی ہے اور وہ سدرہ کو بہت بار بول چکا ہے کہ تیری دوست نور کی پھدی بہت مزا دیتی ہو گئی۔ مجھے بولی کیا خیال ہے بات چلاوں ساتھ میں نور نے مجھے آنکھ ماری اور بولا دل ہے تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے میں رضوان کے ساتھ سو جاؤں گی تم سدرہ کو چودنا۔ میں نے کہا مذاق مت کرو تو میری بیوی نور بولی یاسر میں مذاقِ نہیں کرتی تم چاہتے ہو تو ایسا ممکن ہے کیونکہ رضوان بھی مجھے کافی سال سے چودنا چاہتا ہے۔

میں نے اپنی بیوی کو کہا ایسا کیسے ممکن ہوگا تو نور بولی تمہیں اعتراض نہیں تو میں سدرہ سے بات کرتی ہوں۔ میں نے کہا کرو بات میں راضی ہوں۔ اگلے دن نور نے شام کو میں واپس گھر آیا تو کہا میں نے سدرہ اور اسکے شوہر کو دعوت پر بلا لیا ہے اور وہ کل شام آرہے ہیں۔ تیار رہنا پارٹنر نور مسکرا دی۔ میں نے کہا اوکے دیکھتے ہیں۔ اگلے دن شام 4 بجے سدرہ اپنے شوہر رضوان کے ساتھ گوجرانوالہ سے راولپنڈی ہمارے گھر پہنچ گئی۔ رات کا کھانا ہم نے ایک ساتھ کھایا سدرہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی اور مسکرا رہی تھی اتنے میں میری بیوی کو رضوان بولا کہ واش روم کہاں ہے تو میری بیوی نور اسکو لے کر واش روم کی طرف گی۔ رضوان نے واش روم کے اندر جاتے ہوئے میری بیوی نور کی چوتر پر ہاتھ پھیر دیا جو میں نے اور سدرہ نے دیکھ لیا اور ہم مسکرا دیے۔

پھر کھانے کے بعد میں اور رضوان باہر لان میں گئے اور سدرہ اور نور گھر کچن کے برتن کی صفائی میں لگے۔ رضوان بولا یاسر آج رات مست ہے میں تیری بیوی نور کے لیے بہت تڑپ رہا ہوں میں نے کہا تیری بیوی سدرہ بھی مست مال ہے، سدرہ کے بارے میں بتاتا چلوں سدرہ سانولے رنگ کی اور تھوڑی موٹی لڑکی ہے۔ سدرہ کی عمر 28 سال اور قد 5 فٹ 7 انچ ہے۔ سدرہ کے ممے 38 ہوں گئے اور سدرہ کی گانڈ بھی بڑی ہے۔ میں اور رضوان بہت خوش تھے۔ ہم دونوں نے طے کیا کہ ایک ہی بیڈ پر دونوں کو چودا جائے۔

میں اور رضوان واپس گئے تو نور اور سدرہ بیٹھی تھی میں سدرہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور رضوان میری بیوی نور کے ساتھ بیٹھ گیا۔ میں نے سدرہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور سدرہ ہنستے ہوئے میرے سینے سے لگ گئی۔ میں نے سدرہ کو ہونٹوں پر کس کیا تو واپس سدرہ نے بھی رسپانس دیا۔ وہاں رضوان میری بیوی نور کو گود میں بیٹھا کر میری بیوی کے ممے دباتے ہوئے ہونٹ چوس رہا تھا۔ مجھے نور کو ایسے دیکھ کر بہت شہوت آئی اور میں نے سدرہ کو صوفے پر لٹا دیا اور سدرہ کے ہونٹ چوسنے لگا سدرہ میرا بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔ دس منٹ تک ہونٹ چوسنے کے بعد میں اٹھا اور سدرہ کی قمیض اتارنے لگا اور سدرہ کی کا ہاتھ میرے لن پر تھا۔ سدرہ کی قمیض اتار دی اور سدرہ نے سرخ رنگ کا برا پہنا ہوا تھا میں نے وہ بھی اتار دیا اب سدرہ کے ممے ہر قید سے آزاد میرے سامنے تھے۔ میں نے سدرہ کی شلوار بھی اتار دی۔ اور اپنے کپڑے اتارنے لگا اور میں اور سدرہ ہم دونوں ننگے ہو چکے تھے۔

دوسری جانب میری بیوی نور کو رضوان ننگا کر چکا تھا اور میری بیوی رضوان کا 8 انچ کا لن چوس رہی تھی اور رضوان میری بیوی نور کے مممے دبا رہا تھا۔ اب سدرہ نے میرے لن کو پکڑ لیا اور چوسنے لگی آہ کیا لن چوس رہی تھی آئسکریم کی طرح سدرہ میرا لن چوس رہی تھی اور دوسری جانب اب رضوان میری بیوی کی پھدی چاٹنے میں مشغول تھا نور بہت خوشی سے پھدی چٹوا رہی تھی۔ رضوان کا لن میرے لن سے 2 انچ بڑا تھا اور میری بیوی نور بار بار رضوان کے لن کو پکڑ کر سہلا رہی تھی۔ اور چوم رہی تھی۔ اب میں نے سدرہ کو کہا میری منہ پر اپنی پھدی رکھ اور میرا لن بھی چوسو میں نے سدرہ کی پھدی کا چاٹنا شروع کیا آف کیا نمکین پھدی تھی اور پانچ منٹ سدرہ کی پھدی۔چاٹنے کے بعد سدرہ کی پھدی میرے منہ میں فارغ ہو گئی۔

رضوان نے میری بیوی کو گھوڑی بنا دیا تھا اور میری بیوی کی پھدی پر اپنا لن سیٹ کر کہ دھکا مارا میری بیوی نور نے درد اور مزے سے بھری آواز آہ مر گی نکالی رضوان نے میرے طرف دیکھا جیسے کہہ رہا ہو آج تیری بیوی میری رنڈی ہے آج تیری بیوی کی پھدی پھاڑ دوں گا۔ اور میں نے اسکے سامنے سدرہ کو بالوں سے پکڑ کر اس کا منہ اپنے لن کے قریب کیا اور سدرہ ایک کتیا کی طرح میرا لن چوسنے لگی۔ آف بہت مزا آرہا تھا سدرہ کو لن چسوا کر آج میرا اور رضوان کا خواب حقیقت بن گیا تھا۔

سدرہ میرا لن چوس رہی تھی اور رضوان میری بیوی نور کی پھدی چود رہا تھا۔ اب میں نے سدرہ کو لیٹ جانے کا کہا اور میں نے سدرہ کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر سدرہ کی پھدی میں اپنا لن گھسا دیا اور لن سدرہ کی چوت کے اندر باہر کرنے لگا آہ بہت گرم چوت تھی سدرہ کی اور سدرہ مزے لے لر چدوانے لگی۔ دوسری جانب میری بیوی نور اب رضوان کا لن چوس رہی تھی اور پھر رضوان لیٹ گیا اور میری بیوی نور رضوان کے لن پر بیٹھ کر اپنی پھدی رضوان کے لن پر مارنے لگی۔ سارے کمرے میں سدرہ اور نور کی چدائی کی آوازیں گونج رہی تھی میں اور رضوان دونوں ہی مزے سے سدرہ اور نور کی پھدی چود رہے تھے

اچانک رضوان نے لن نکال کر میری بیوی کے منہ میں ڈال دیا اور میری بیوی نور کے منہ میں جھٹکے مارنے لگا میری بیوی رضوان کا لن چوس رہی تھی اور رضوان نے جھٹکے تیز کر دیے رضوان نے میری بیوی نور کے منہ میں اپنی منی نکال دی اور میری بیوی کا منہ رضوان کی منی سے بھر گیا تھا میری بیوی نے ساری منی نگل لی۔ میں سدرہ کو گھوڑی بنا دیا اور سدرہ کی پھدی کو چودنے لگا اب زور زور سے میں سدرہ کی پھدی چود رہا تھا اچانک میرے لن نے منی اگل دی اور سدرہ کی پھدی میری منی سے بھر گی۔ کچھ دیر میں ایسے ہی سدرہ کے اوپر لیٹا رہا اور پھر لن سدرہ کے منہ میں دیا کہ چوس کر صاف کرے۔ میری بیوی رضوان کا لن چوس رہی تھی۔ مجھے بولی مزا آیا سدرہ کی پھدی چود کر میں نے کہا ہاں میری پیاری بیوی بہت مزا آیا۔

سدرہ بھی خوش تھی۔ اب رضوان نے میری بیوی کو گود میں اٹھایا اور مجھے کہا یاسر تیری بیوی نور کو اب کمرے میں کے جا کر چودوں گا۔ صبح ملینگے اور سدرہ کو بولا بی بی مزے کرو۔ میری بیوی رضوان کو کمرے میں لے گی اور میں نے سدرہ کو کمرے میں لے گیا۔ ساری رات میں نے سدرہ کو 7 بار چودا اور صبح 6 بجے ہم سوئے۔ جب ہم سو کر اٹھے تو دیکھا کہ رضوان میری بیوی کی پھدی کچن میں چود رہا ہے۔ اپنی بیوی کو کچن میں پھدی مرواتی دیکھ کر میرا لن گرم ہو گیا اور میں نے نور کو لن چسوانا شروع کیا۔ اب رضوان میری بیوی کی پھدی مار رہا تھا اور میری بیوی نور میرا لن چوس رہی تھی۔ پھر میں نے نور کی پھدی چودنا شروع کیا اور رضوان نے میری بیوی نور کے منہ میں لن ڈال دیا پانچ منٹ چدائی کے بعد میری منی میری بیوی نور کی پھدی میں نکل گی اور پھر رضوان میری بیوی کی پھدی چودنے لگا اور کچھ دیر بعد رضوان نے بھی اپنی منی میری بیوی کی پھدی میں نکال دی۔ پھر کچھ دیر بعد میں نے اور رضوان نے ملکر سدرہ کو چودا۔ اب ہم اکثر ایسے بیویاں بدل کر چدائی کرتے ہیں۔ ۔

 

 

ناول خریدنے کے لئے وٹس اپ کریں

03494344438




Post a Comment

Thanks to contact us

Adult Books Store | Designed by Oddthemes | Distributed by Gooyaabi