نہیں یہ مت کرنا
(کزن سٹوری)
سال 1994
عمر 16 سال
دسویں جماعت کا طالب علم
دوستوں کے ساتھ کھیل کود،
سیر و تفریح، ہنسی مذاق اور ہر قسم کے لہو و لعب سے دور گزرتے ہوئے ایام میں ایک
دن ایک دوست نے اچانک بھونچال پیدا کردیا۔
ایک دن اس نے ایک کی چین
کی جھلک دکھائی جس کے ساتھ سفید رنگ کے موٹے کاغذ (تاش کے پتوں کی مانند) جڑے ہوئے
تھے اور ان پر کچھ تصاویر تھیں۔
ان تصاویر نے سب کے پسینے
نکال دیئے اور ایک دم سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔
کیونکہ وہ تصاویر
انگریزوں کی مباشرت کرتے ہوئے تھیں، کسی تصویر میں لڑکی لنڈ چوس رہی تھی، کسی میں
لڑکا لڑکی کی چوت چاٹ رہا تھا، کسی میں دونوں فرنچ کس کر رہے تھے، کسی میں لڑکی کے
ممے چوسے جارہے تھے، کسی میں لڑکے نے لنڈ لڑکی چوت یا گانڈ میں گھسایا ہوا تھا۔
یہ تصاویر دیکھ کر سارے
کے سارے دوست ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوگئے، کسی کی شلوار تمبو بن گئی، کسی
کی پینٹ میں چٹان ابھر گئی، سب ایک دوسرے سے منہ چھپانے لگے۔
آخر کار چند منٹوں کے بعد
سب کو حواس بحال ہوئے اور ایک دوست نے تصاویر دکھانے والے سے پوچھا ابے یہ کہاں سے
لے آیا؟
اس نے بتایا کہ یہ اس کے
کزن نے دیں ہیں اور جنسی فلم بھی دکھانے کا کہا ہے بس ہم کو وی سی آر اور ٹی وی
کرائے پر لینے کیلئے پیسے جمع کرنے پڑیں گے۔
قصہ مختصر چند ہی دن میں
ہم دوستوں نے پیسے جمع کر لیے اور ایک دوست کے گھر میں جب اس کے گھر والے کسی
تقریب میں شرکت کیلئے جارہے تھے وہاں پر سیکسی فلم دیکھی اور جنسی معاملات سے
آگاہی شروع ہوگئی۔
فلم دیکھنے کا جو مزا تھا
وہ تو الگ ہی تھا مگر اس کے ساتھ ہمارے لیے تو معلومات کا خزانہ بھی تھی۔
سوئے اتفاق فلم میں
لیسبین سیکس بھی تھا، نارمل چدائی بھی تھی اور گانڈ سے جنسی عمل بھی تھا۔
یہ سب دیکھ کر تمام
دوستوں کی زندگی میں بدلاؤ آگیا اور جنسی عمل کی طرف دھیان بڑھنے لگا۔
ہمارے خاندان میں میری ہم
عمر تقریبا چار کزنز تھیں، جن میں سے دو کے معاملات دیکھ کر مجھے یہ محسوس ہونے
لگا کہ ان دونوں کے درمیان جنسی تعلق ہے۔
ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ہم
سب گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی نانی کے گھر پر رہنے گئے ہوئے تھے تو اوپر والی منزل
کے غسل خانے میں وہ دونوں کزنز سب سے چھپ کر ایک ساتھ نہانے چلی گئیں یہ دیکھ کر
میں متجسس ہوا اور کوشش کرکے غسل خانے کے دروازے کے نیچے سے جھانکنے لگا۔
گوکہ منظر زیادہ واضح
نہیں تھا مگر ان کی ٹانگوں کی حرکات اور آوازوں سے اندازہ ہوا کہ دونوں جنسی عمل
میں مصروف ہیں۔
میں اسی کمرے میں بیٹھ
گیا تھوڑی دیر بعد وہ دونوں نہا دھو کر جیسے ہی باہر نکلیں تو مجھے دیکھ کر دونوں
کی بتی گل ہوگئی۔
میں نے پوچھا تم دونوں
ایک ساتھ کیا کررہی تھیں، وہ دونوں ڈر گئیں اور سمجھیں پھنس گئیں۔
کچھ لمحے تو دونوں کی سٹی
گم رہی پھر وہ مجھ سے کہنے لگیں کہ تم یہ بات کسی کو بھی نہیں بتانا، تم ہمارے بہت
اچھے کزن ہو، ہم کچھ غلط نہیں کررہے تھے بس جلدی تھی اس لیے ساتھ نہا لیے۔
میں سمجھ تو گیا تھا کہ
یہ جنسی عمل میں مصروف تھیں، نہانا تو ایک بہانہ تھا اس لیے میں نے ان کو ڈرایا کہ
میں سب کو بتاؤں گا، تو وہ پھر مجھ سے کہنے لگیں کہ پلیز ایسا نا کرنا اگر تم اس
بات کا ذکر کسی سے نہیں کرو گے تو تم جو کہو گے ہم وہ کریں گے۔
میں نے کچھ دیر سوچا اور
میرے ذہن میں سیکسی فلم آگئی تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے مگر اگر تم نے میری بات
نہیں مانی تو پھر تم تو گئیں۔
ہم سب کزنز رات کو چھت پر
سوتے تھے، ایک لمبی دری بچھائی اور سب برابر برابر لیٹ گئے، تو اس رات کو میں اپنی
ان دونوں کزنز کے برابر میں لیٹ گیا، نانی کے شہر میں رات کو بہت ٹھنڈی ہوا چلتی
تھی اس لیے ہم چادر بھی رکھتے تھے کہ کسی کو زیادہ ٹھنڈ لگے تو وہ چادر اوڑھ لے،
اور لڑکیاں اکثر چادر اوڑھ کر ہی سوتی تمھیں بے پردگی سے بچنے کیلئے۔
رات میں چھت پر اندھیرا
ہی ہوتا تھا تو اس رات جس کزن کے برابر میں، میں لیٹا اس نے چادر اوڑھی ہوئی (میرا
کام آسان).
رات کے تقریباً دو بج گئے
ہوں گے سب گہری نیند میں اور میری نگاہوں میں سیکسی فلم، پہلے تو میں ڈرتا رہا مگر
پھر ہمت کری اور اپنا ایک ہاتھ کزن کی طرف بڑھایا اور اس کی ٹانگ پر رکھ دیا،
تھوڑی دیر کے بعد اپنا ہاتھ چادر کے اندر لے جاکر اس کے پیٹ پر رکھ دیا، پھر کچھ
دیر بعد ہاتھ اس کی قمیض کے اوپر سے ہی اس کے ممے پر رکھ دیا، اس نے بریزر پہنا
ہوا تھا۔
کچھ دیر ہاتھ وہیں رکھا
رہا پھر اس کے ممے کو سہلانے لگا، تھوڑی ہی دیر میں وہ جاگ گئی اور ڈر گئی اور
میرا ہاتھ پکڑ لیا، پھر اس نے مجھے دیکھا اور میرا ہاتھ اپنے ممے سے جھٹک دیا اور
غصیلی آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگی۔
میں نے کہا کہ یاد کرو تم
نے کہا تھا کہ میری ہر بات مانو گی تو میں جو کررہا ہوں مجھے کرنے دو، اس نے آنا
کانی شروع کردی ، میں نے اس کو پھر دھمکایا اور تھوڑی دیر بعد وہ مان گئی۔
اس کے ماننے کی دیر تھی
کہ میں بھی اس کی چادر کے اندر۔
سچی بات یہ ہے کہ پھٹ تو
میری بھی رہی تھی لیکن دماغ پر سیکسی فلم سوار تھی تو اس لیے چادر میں گھس گیا اور
پھر سے اس کے ممے پر ہاتھ رکھ کر اس کو سہلانے لگا اور تھوڑی ہی دیر بعد اپنا ہاتھ
اس کی قمیض کے اندر کرنے لگا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا لیکن میں نے زبردستی ہاتھ
قمیض میں گھسا ہی دیا۔
میں یہ سمجھ رہا تھا کہ
اندر ممے ننگے ہوں گے لیکن ہمیں کیا پتا تھا کہ مموں پر بریزر بھی ہوتا ہے، خیر
میں نے بریزر کے اندر ہاتھ ڈالا اور نرم نرم سے 32 سائز کے ممے کو پکڑ لیا اور کزن
بری طرح کسمسانے لگی۔
اس کے ممے کچھ خوبانی کی
طرح نرم نرم سے تھے اور کچھ کچھ آلو بخارے جیسی سختی بھی تھی مجھے مزا آنے لگا تھا
لیکن کزن ابھی مزے سے دور تھی۔
بریزر کی وجہ سے مجھے
تنگی سی محسوس ہو رہی تھی اور بریزر بھی ٹائیٹ تھا تو میں نے اس کو اوپر کردیا اور
دونوں ممے باہر، پھر میں نے قمیض کو بھی بالکل اوپر کردیا اور ننگے ممے میرے
سامنے۔
اندھیرے کی وجہ سے ممے
بہت صاف تو نظر نہیں آرہے تھے مگر ننگے تو تھے نا تو مزا بھرپور دے رہے تھے۔
کچھ دیر ممے سہلاتا رہا
پھر ایک دم اس کی نپل منہ میں لے لی تو وہ بری طرح مچل گئ، میں ڈر گیا اور اس کے
کان میں ہلکی مگر غصیلی آواز میں کہا کہ اپنے جسم کو زیادہ مت ہلاؤ کہیں کوئی آٹھ
نا جائے۔
وہ بھی ڈر رہی تھی اس لیے
چپ چاپ میری بات مان لی۔
میں آہستہ آہستہ اس کا
ایک مما چوسنے لگا، اور دوسرا ہاتھ سے سہلانے لگا، اس کے نپل بالکل چنے کی دال کے
برابر ہی تھے مگر مجھے مزا بہت آرہا تھا، تھوڑی ہی دیر میں کزن کو بھی مزا آنے لگا
اور اس نے اپنا آپ میرے حوالے کردیا۔
میں اناڑی تھا اور وہ بھی
کھلاڑی تو نہیں تھی مگر جب ممے چوسے جارہے ہوں تو مزا تو آنا ہی تھا۔
ممے چوستے چوستے تقریباً
دس منٹ ہوگئے تھے اور میرا لنڈ جو شاید اس وقت ساڑھے تین انچ یا چار انچ لمبا ہوگا
کھڑا ہوچکا تھا اور میرے ذہن میں اب چوت آرہی تھی ۔
میں ممے چوستے چوستے ایک
ہاتھ اس کی شلوار کی طرف لے گیا اور اوپر سے ہی اس کی چوت تلاش کرنے لگا تو اس نے
ایک دم میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی نہیں یہاں نہیں۔
میں نے کہا کیوں نہیں تو
کہنے لگی بس مموں سے ہی کھیلو مگر مجھے تو چوت کو بھی ہاتھ لگانا تھا بلکہ اپنا
لنڈ اس میں گھسانا تھا تو میں نے کہا میں جو کررہا ہوں وہ مجھے بالکل آرام سے کرنے
دو، تھوڑی ہچکچاہٹ اور کشمکش کے بعد اس نے اپنی ٹانگیں بھی کھول دیں اور میرا ہاتھ
بھی چھوڑ دیا اور میرا ہاتھ اس کی چوت پر پہنچ گیا، مگر شلوار کے اوپر سے کیا خاک
پتا چلتا تو میں نے بس ایک دم ہی اپنا ہاتھ اس کی شلوار کے اندر گھسیڑ دیا، اور وہ
پھر اچھل گئی، مگر میں نے اس مرتبہ اس کی ٹانگوں کو اپنی ایک ٹانگ سے دبا دیا جس
سے میرا لنڈ بھی اس کی ران سے چپک گیا اور میرا ہاتھ تو اس کی چوت تک پہنچ ہی چکا
تھا۔
اس کی چوت پر باریک باریک
بال تھے خیر ننگی چوت پر ہاتھ لگتے ہی اس نے اپنی ٹانگیں پھر بھینچ لیں اور میرا
ہاتھ اس کی چوت پر صحیح سے نہیں پہنچا تو میں نے زبردستی اس کی ٹانگوں کو کھولا
اور اپنی ایک ٹانگ اس کی دونوں ٹانگوں کے۔ بیچ میں گھسیڑ دی تاکہ وہ دوبارہ ٹانگیں
نا ملا سکے۔
اور پھر میں آہستہ آہستہ
اس کی چوت سہلانے لگا کیا نرم نرم اور گرم گرم چھوٹی سی چوت تھی۔
ممے میرے منہ میں، چوت پر
میری انگلیاں، بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی چھری کے نیچے آہی گئی یعنی اب اس کو
بھی صحیح مزا آنے لگا
میں کوشش کررہا تھا کہ اس
کی چوت میں انگلی گھسیڑ دوں مگر کامیابی نہیں مل رہی تھی، ادھر میرے دماغ نے کہا
کہ بھئی تیرا لنڈ ابھی تک شلوار کے اندر ہی ہے تو اس کو باہر نکال اور چوت میں ڈال
( بہت ہی آسان سمجھ لیا تھا میں نے یہ).
خیر میں نے شلوار میں سے
لنڈ باہر نکالا اور کزن کی شلوار کو تھوڑا نیچے کردیا اور لنڈ اس کی چوت کی طرف
بڑھایا مگر میں کروٹ لے کر لیٹا ہوا تھا تو لنڈ اس کی ران پر لگا وہ ایک دم چونک
گئی کہ یہ کیا ہے؟
تھوڑا چھوٹا، تھوڑا موٹا.....
اس نے ہاتھ لگایا اور
سمجھ گئی کہ یہ میرا لنڈ ہے اور شرما کر فوراً چھوڑ دیا
اس کا ہاتھ لگتے ہی مجھے
اور مزا آیا، میں نے کہا کہ اس کو پکڑو مگر وہ شرمانے لگے تو میں نے زبردستی اپنا
لنڈ اس کے ہاتھ میں پکڑا کر اوپر سے اپنے ہاتھ کی گرفت میں کرلیا۔
اب میں اس کے ممے بھی چوس
رہا تھا ایک ہاتھ سے اس کی چوت سے بھی کھیل رہا تھا اور ایک ہاتھ سے اس کے ہاتھ کو
اپنے لنڈ پر بھی دبا رہا تھا آہستہ آہستہ وہ بھی گرم ہورہی تھی اور کبھی کبھی اس
کی سسکاری نکل جاتی تھی۔
پھر میں نے اس کو اپنی
طرف گھمایا اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت پر فٹ کردیا اس کی سسکاری نکلی اور وہ بولی
کہ یہ کیا کررہے ہو، میں نے کہا کہ اپنا لنڈ تمہاری چوت میں ڈالوں گا تو یہ سن کر
وہ پیچھے ہوگئ اور ایک دن سیدھی لیٹ گئی اور بولی کہ نہیں یہ نہیں کرنا بڑا مسئلہ
ہو جائے گا۔
میں نے کہا کیا مسئلہ تو
اس نے کہا کہ میں کنواری ہوں اور اگر تم نے لنڈ ڈالا تو ایک تو مجھے بہت تکلیف
ہوگی جس کی وجہ سے شور ہو جائے گا اور دوسری بات میں بغیر شادی کے ماں بن جاؤں گی
یہ سن کر میں بھی تھوڑا
ڈر گیا، مگر دماغ پر تو شیطان سوار تھا، میں نے کہا کہ میں تو ڈالوں گا، تو اس نے
کہا کہ تم چوت کے اوپر رکھ لو مگر اندر نہیں کرنا، مگر مجھے تو چوت میں لنڈ ڈالنا
بہت آسان لگ رہا تھا کہ ادھر میں رکھوں گا ادھر چوت کے اندر، خیر وہ نا مانی تو
میں نے کہا کہ پھر وہ اپنی گانڈ میں ڈلوالے تو وہ اس پر راضی ہوگئی اور الٹی ہوگئ
پھر میں اس پر چڑھ گیا
مگر ادھر ادھر دیکھ کر تھوڑا ڈر گیا کہ کسی نے دیکھا تو چادر کے اندر ہونے کے
باوجود پتا لگا جانا ہے، تو میں نے اس کو کروٹ دلائی اور اسکی گانڈ کا رخ اپنی طرف
کرکے اپنا لنڈ اس کی گانڈ کے سوراخ پر ٹکا دیا اور لگا اندر گھسیڑنے۔
اندر تو کیا جاتا خشکی کی
وجہ سے (مجھے تو اندازہ نہیں تھا کہ لنڈ اور گانڈ کو گیلا کرنا چاہیے) اس کے بس
اسی طرح کوشش کرتا رہا ایک ہاتھ سے ممے دبا رہا تھا تو اس نے دوسرا ہاتھ اپنی چوت
پر رکھ دیا اور کہا کہ اس کو مسلو۔
اب ایک ہاتھ سے ممے مسل
رہا تھا، دوسرے ہاتھ سے اس کی چوت مسل رہا تھا، لنڈ اس کی گانڈ پر رگڑ رہا تھا اور
اندھیری رات میں مزے سے ہواؤں میں اڑ رہا تھا، وہ بھی خوب مزے لے رہی تھی اور ہلکی
ہلکی سسکاریاں لے رہی تھی، پھر اچانک اس کا جسم اکڑنے لگا اور وہ آہ آہ آہ کرتے
ہوئے جھٹکے لیتے ہوئے فارغ ہوگئی، اور مجھے بھی ایسا لگا کہ میری منی نکل رہی ہے
تو میری بھی اواز سسکیوں میں بدل گئی اور میں نے اپنی منی اس کے چوتڑوں پر ہی نکال
دی۔
اس کے بعد ایسا لگا کہ
میرے جسم سے جان نکل گئی ہے اور کزن بھی بے سدھ۔
تھوڑی دیر بعد ہم دونوں
ہوش میں آئے اور ایک ایک کرکے واش روم جاکر صفائی کری
اور لیٹ کر سوگئے
اس رات کے بعد کئی مرتبہ
اندھیری راتوں میں اسی طرح کا سیکس کیا مگر کبھی بھی لنڈ گانڈ میں نہیں گھسایا اور
ناہی چوت میں کیونکہ بغیر ڈالے بھی بہت لطف ملتا تھا
دوسری کزن کے ساتھ نہیں
کیا اور نا ہی میں نے کبھی اس کو بتایا، اس کو بلیک میل کرکے بازار سے کبھی جوس،
کبھی برگر کبھی کوئی اور چیز کھاتا تھا۔
بس یہی تھی اندھیرےمیں
انگلی کی شرارت
ناول خریدنے کے لئے وٹس اپ کریں
03494344438
Post a Comment
Thanks to contact us